بلوچستان حکومت کی جانب سے مادری زبانوں کی ادبی اکیڈمیز کے اختیارات ختم کرنا قابل مذمت ہے۔ براہوئی اکیڈمی مستونگ برانچ

0

مستونگ(زیبائے پاکستان) براہوئی اکیڈمی مستونگ برانچ کے ادباء اور شعراء کی جانب سے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں حکومت بلوچستان کے اس فیصلے کی سختی سے مذمت کی گئی ہے جس میں مادری زبانوں کی اکیڈمیز کے اختیارات سلب کر کے انہیں اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے قرارداد پاس کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست خداداد پاکستان کے آئین میں واضح طور پر عیاں ہے کہ ریاست میں بولی جانے والی زبانیں ان کی قومی اور مادری زبانیں ہیں اور انکی ترقی و ترویج کے سلسلے میں بولی جانے والی زبانوں کے شعراء ادباء اور دیگر اہل قلم کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مادری زبانوں کی ترقی کے لیے جدوجہد کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مادری زبانیں کسی بھی قوم کی شناخت ثقافت اور تاریخ کا بنیادی ستون ہوتی ہیں اور ان کی سرپرستی اور ترقی ہر دور میں حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری رہی ہے۔ مزید یہ کہ ادبی ادارے کسی ایک طبقے یا گروہ کی ملکیت نہیں ہوتی ہیں بلکہ پوری قوم اور زبان کے نمائندہ ادارہ ہوتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ براہوئی زبان کا شمار خطے کی قدیم ترین اور تاریخی زبانوں میں ہوتی ہے۔ جبکہ براہوئی زبان کے بارے میں یونیسکو نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ یہ زبان بہت جلد ختم ہونے والی زبانوں کی فہرست میں شامل ہے اور اس زبان کو سہارا دینے ترقی و ترویج کے لیے جدوجہد کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مقصد کے لیے براہوئی اکیڈمی رجسٹرڈ پاکستان کوئٹہ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے نازک وقت میں جبکہ براہوئی زبان کے لیے کام کی زیادہ ضرورت ہے۔ حکومت وقت کی جانب سے اکیڈمیز کے اختیارات سلب کرنا زبان کے ساتھ سراسر ظلم کے مترادف ہے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ براہوئی اہل علم اہل قلم حکومت وقت کے اس فیصلے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے اور اپنے زبان کی خدمت اور حقوق کی خاطر ہر آئینی جمہوری راستہ اختیار کرنے سے دریغ نہیں کرینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.