Browsing Category

کالمز

پرنٹ میڈیا کی قومی خدمات اور سوشل میڈیا کے بے بنیاد دعوے

تحریر: ندیم صادق موجودہ دور میں بعض سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پرنٹ میڈیا اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اخبارات محض کاغذ کے ٹکڑے رہ گئے ہیں۔ یہ سوچ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ملکی صحافتی تاریخ سے…

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سے ایک صحافی کا سوال

تحریر: عظمت خان داؤد زئی وزیراعلیٰ بلوچستان جناب سرفراز بگٹی صاحب! کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں میڈیا، خصوصاً پرنٹ میڈیا کن کٹھن مراحل سے گزر رہا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک اخبار نکالنے کا روزانہ خرچ کیا ہے اور آمدن کتنی…

اخبار آج بھی سوشل میڈیا کے مقابلے میں زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے

سوشل میڈیا تیز رفتار ہے، مگر ہر تیز چیز درست نہیں ہوتی خبر کی رفتار سے زیادہ اس کی سچائی اہم ہوتی ہے رپورٹ ،، ریاض احمد شاہوانی موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو بے حد تیز کر دیا ہے، وہیں اس کی وجہ سے خبروں کی…

’دردِ نا تمام‘‘ محبت کا کھلا پیغام ہے

شاہین بارانزئی پروفیسراحمد علی صابر بولانوی صاحب اپنی دو اہم خصوصیات کی بدولت اہل بلوچستان کے لیے کوئی کم مشہور شخصیت کے مالک نہیں۔ ایک یہ کہ موصوف اپنی پوری زندگی بلوچستان میں تعلیم کے دیپ جلاتے رہے، اب بھی تعلیم کے فروغ میں مصروف عمل…

110 اخبارات ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش اور حکومت و عوام کے درمیان مضبوط پل

سوشل میڈیا مفاد کیلئے روایتی صحافت کو نشانہ بنانا قابل افسوس عمل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر/ قیوم بلوچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صحافت محض الزامات تراشنے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، توازن اور…

ایک طرف بھوک و افلاس، دوسری جانب لاکھوں گندم کی بوریاں خراب , بلوچستان کا المیہ

کالم میروائس مشوانی “غربت خیرات سے نہیں بلکہ انصاف سے ختم ہوتی ہے” — یہ قول آج بلوچستان کے حالات پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ہمیشہ غربت کے مسئلے کو وقتی امداد اور خیراتی پیکجز کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، مگر اس طرزِ عمل…

عبادات میں آگے معاملات میں پیچھے ہمارا اجتماعی المیہ

تحریر صحافی اسد بلوچ حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں کے لحاظ سے پہلے نمبر پر شمار ہوتا ہے، مگر اگر ایمانداری کی عالمی فہرست دیکھی جائے تو ہم تقریباً آخری درجوں میں کھڑے نظر آتے ہیں یہ تضاد صرف…