
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ انسان کی روحانی تربیت کا جامع نظام ہے۔ اگر اس مبارک مہینے کے مقاصد پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس کا بنیادی ہدف تقویٰ کا حصول ہے۔ روزہ فرض کیے جانے کا مقصد یہی بیان کیا گیا کہ بندہ متقی بن جائے۔ گویا رمضان کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی باطنی کیفیت پیدا ہو جو اسے ہر حال میں اللہ رب العزت کی رضا کا طالب بنا دے۔ تقویٰ دراصل دل کی وہ بیداری ہے جو انسان کو گناہ سے روکتی اور نیکی کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ محض ظاہری پرہیزگاری کا نام نہیں بلکہ ایک اندرونی احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ جب یہ احساس دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے تو انسان تنہائی میں بھی گناہ سے بچتا ہے اور مجمع میں بھی دیانت داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر ایمان کی پختگی کو پرکھا جا سکتا ہے۔ رمضان المبارک تقویٰ کی عملی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک روزہ دار کے سامنے پانی موجود ہوتا ہے اور کھانا رکھا ہوتا ہے مگر وہ اس لیے ہاتھ نہیں بڑھاتا کہ اسے یقین ہے اللہ رب العزت اسے دیکھ رہے ہیں۔ یہ احساسِ نگرانی دراصل تقویٰ کی بنیاد ہے۔ یہی کیفیت اگر سال بھر برقرار رہے تو انسان کی زندگی کا ہر پہلو سنور سکتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کے معاشرے میں ظاہری عبادات تو نظر آتی ہیں لیکن معاملات میں تقویٰ کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ نماز پڑھنے والا بھی جھوٹ بول دیتا ہے، روزہ رکھنے والا بھی کاروبار میں دھوکہ دے دیتا ہے اور بظاہر دیندار نظر آنے والا بھی دوسروں کے حقوق پامال کر دیتا ہے۔ اس تضاد کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے تقویٰ کو صرف عبادات تک محدود کر دیا ہے، جبکہ تقویٰ زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے۔ کاروبار میں تقویٰ کا مطلب ہے ناپ تول میں کمی نہ کرنا، ملاوٹ سے بچنا اور دیانت داری اختیار کرنا۔ معاشرت میں تقویٰ کا مطلب ہے دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا، غیبت اور بدگمانی سے پرہیز کرنا اور وعدوں کی پاسداری کرنا۔ گھریلو زندگی میں تقویٰ کا تقاضا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، والدین اولاد کی صحیح تربیت کریں اور اولاد والدین کی خدمت کرے۔ اگر رمضان ہمیں یہ سب سکھا دے تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے اس مہینے کا مقصد حاصل کر لیا۔ تقویٰ کا ایک اہم پہلو حلال و حرام کی تمیز ہے۔ آج کے دور میں کمائی کے ذرائع متنوع ہو چکے ہیں۔ انسان آسانی سے غلط راستوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ لیکن جس دل میں تقویٰ ہو وہ حرام کی طرف قدم نہیں بڑھاتا۔ وہ جانتا ہے کہ وقتی فائدہ دائمی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ حلال رزق کم ہو تو بھی برکت والا ہوتا ہے جبکہ حرام کی کثرت بھی سکون نہیں دے سکتی۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم دراصل تقویٰ کی کتاب ہے۔ جب انسان قرآن پاک کے پیغام کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے دل میں خوفِ خدا اور محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ یہی کیفیت اسے گناہوں سے دور اور نیکیوں کے قریب لے جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن پاک صرف رسم بن کر رہ جائے اور اس کے احکامات ہماری عملی زندگی میں نہ آئیں تو یہ ہماری کمزوری ہے۔ تقویٰ انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔ متقی شخص تکبر نہیں کرتا بلکہ ہر حال میں اپنے رب کے سامنے جھکا رہتا ہے۔ وہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتا بلکہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے۔ آج کے معاشرے میں غرور، حسد اور مقابلہ بازی عام ہو چکی ہے۔ اگر ہم تقویٰ کو اپنا شعار بنا لیں تو یہ بیماریاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ رمضان کا نویں دن ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ روزہ صرف جسمانی بھوک کا نام نہیں بلکہ روحانی بیداری کا ذریعہ ہے۔ اگر ہمارا روزہ ہمیں جھوٹ سے نہ روکے اگر ہماری نماز ہمیں برائی سے نہ بچائے اور اگر ہماری تلاوت ہمیں عاجزی نہ سکھائے تو ہمیں اپنی نیت اور اخلاص کا جائزہ لینا ہوگا۔ عبادت کا اصل اثر کردار میں ظاہر ہونا چاہیے۔ تقویٰ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ رب العزت کی رضا کو مقدم رکھے۔ بعض اوقات دنیاوی فائدہ ایک طرف ہوتا ہے اور دینی اصول دوسری طرف۔ متقی شخص وہ ہے جو نقصان برداشت کر کے بھی اصول پر قائم رہتا ہے۔ یہی استقامت اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تقویٰ وقتی جذبہ نہیں بلکہ مستقل مزاجی کا نام ہے۔ رمضان ہمیں ایک مہینے کی عملی تربیت دیتا ہے تاکہ باقی گیارہ مہینوں میں بھی ہم اسی راہ پر چل سکیں۔ اگر رمضان المبارک کے بعد ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی برقرار رہے تو یہ کامیابی کی علامت ہے۔ آج ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم تقویٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ ہم اپنے دل کی اصلاح کریں گے، اپنی نیتوں کو خالص کریں گے، اپنے معاملات کو درست کریں گے اور اللہ رب العزت کی رضاء کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ رمضان المبارک کا پیغام واضح ہے کہ اپنے دلوں کو تقویٰ سے آراستہ کریں۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیا تو یقیناً ہمارا معاشرہ بھی سنور جائے گا اور ہم اللہ رب العزت کی خاص رحمتوں کے مستحق بن جائیں گے۔
اللہ رب العزت ہمیں حقیقی تقویٰ نصیب فرمائے، ہمارے روزوں اور عبادات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو ہر حال میں اس کی رضاء کے طالب رہتے ہیں۔ آمین۔