
سوشل میڈیا مفاد کیلئے
روایتی صحافت کو نشانہ
بنانا قابل افسوس عمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر/ قیوم بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحافت محض الزامات تراشنے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، توازن اور زمینی حقائق کو سامنے لانے کا تقاضا کرتی ہے۔ حالیہ دنوں ایک ” فرد ” کی جانب سے صوبے میں شائع ہونے والے اخبارات کو “ڈمی” قرار دینے کا جو بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، وہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ ان سینکڑوں صحافتی کارکنوں کی محنت کو بھی نظر انداز کرتا ہے جو محدود وسائل میں بھی اپنا پیشہ دیانت داری سے نبھا رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ اصول ذہن نشین رہنا چاہیے کہ کوئی بھی اخبار جب قانونی تقاضے پورے کرکے پریس میں چھپ جاتا ہے، باقاعدہ ڈیکلریشن رکھتا ہے اور نیوز پرنٹ پر شائع ہوتا ہے تو اسے محض اندازوں کی بنیاد پر ڈمی کہنا انصاف نہیں۔ اخبارات کی رجسٹریشن، اشاعت اور تقسیم ایک منظم قانونی عمل کے تحت ہوتی ہے۔ اگر کسی اخبار کو اعتراضات کا سامنا ہے تو اس کا فیصلہ متعلقہ ادارے کرتے ہیں، نہ کہ ذاتی رائے۔
صوبے سے شائع ہونے والے 110 اخبارات محض کاغذ کے پلندے نہیں بلکہ ہزاروں افراد کا روزگار ہیں۔ ایڈیٹر، رپورٹر، سب ایڈیٹر، پروف ریڈر، گرافک ڈیزائنر، پریس ورکر، ڈسٹری بیوٹر اور ہاکر ، سب اسی نظام کا حصہ ہیں۔
بلوچستان جیسے وسیع اور پسماندہ صوبے میں مقامی اخبارات نہ صرف اطلاعات فراہم کرتے ہیں بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان مؤثر رابطے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
دور دراز اضلاع کے مسائل، ترقیاتی منصوبے، حکومتی اعلانات اور عوامی شکایات سب سے پہلے مقامی اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آتے ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ اخبارات صرف فائلوں میں زندہ ہیں، ان صحافیوں کی شب و روز محنت کی نفی ہے جو میدان میں کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ موصوف مرتضیٰ زہری نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ایک ایسے ہی اخبار میں بطور پروف ریڈر کیا جسے آج وہ “ڈمی” قرار دے رہے ہیں۔ اگر وہ ادارہ غیر مؤثر تھا تو وہیں سے صحافتی تربیت کیسے ممکن ہوئی؟
حقیقت یہ ہے کہ انہی اخبارات نے کئی نوجوانوں کو صحافت میں قدم رکھنے کا موقع فراہم کیا۔ اطلاعات کے مطابق موصوف ایک سوشل میڈیا چینل بھی چلا رہے ہیں، جس کی رسائی اور اثر پذیری خود ایک بحث طلب موضوع ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری اشتہارات کے حصول کے لیے سرگرم ہیں اور اسی مقصد کے تحت روایتی اخبارات کے خلاف فضا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو اشتہارات درکار ہیں تو اس کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، مگر پورے اخباری ڈھانچے کو مشکوک بنا دینا اصلاح نہیں بلکہ کاروباری حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔
یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے محکمہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر) سے ملاقاتوں میں اخبارات کے اشتہارات ختم کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منتقل کرنے کی بات کی۔ اگر ایسا ہے تو یہ صحافتی جدوجہد نہیں بلکہ مفاداتی سیاست کہلائے گی۔ صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ مقابلہ معیار پر ہو، نہ کہ دوسروں کا روزگار ختم کرکے۔
سرکاری اشتہارات کی تقسیم یقیناً شفاف ہونی چاہیے، مگر اس بنیاد پر تمام اخبارات کو مشکوک قرار دینا ناانصافی ہے۔ بلوچستان کے جغرافیائی حالات، ترسیل کے مسائل اور محدود وسائل کے باوجود یہ اخبارات مسلسل شائع ہو رہے ہیں اور عوام تک معلومات پہنچا رہے ہیں۔
پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کا دائرہ کار مختلف ہے۔ پرنٹ میڈیا باقاعدہ اداریاتی پالیسی، قانونی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ ضابطوں کے تحت کام کرتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا نسبتاً غیر منظم ہے۔ دونوں کا تقابل کرتے ہوئے ایک کو مکمل طور پر رد کر دینا دانشمندی نہیں۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ صحافتی برادری تقسیم کا شکار ہونے کے بجائے اصلاح، شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری پر توجہ دے۔ بلوچستان کے 110 اخبارات آج بھی عوامی آواز کو اجاگر کر رہے ہیں اور حکومت تک پہنچا رہے ہیں۔ انہیں کمزور کرنے کے بجائے مضبوط بنانا ہی صوبے اور صحافت دونوں کے مفاد میں ہے۔