’دردِ نا تمام‘‘ محبت کا کھلا پیغام ہے

0

شاہین بارانزئی
پروفیسراحمد علی صابر بولانوی صاحب اپنی دو اہم خصوصیات کی بدولت اہل بلوچستان کے لیے کوئی کم مشہور شخصیت کے مالک نہیں۔ ایک یہ کہ موصوف اپنی پوری زندگی بلوچستان میں تعلیم کے دیپ جلاتے رہے، اب بھی تعلیم کے فروغ میں مصروف عمل ہیں۔ دوسرا اپنے خوش طبع مزاج ، ہنسنی مذاق اور چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کی وجہ سے۔
یوں تو بولانوی صاحب سیکڑوں ادبی مضامین لکھے ہیں، بلوچستان کے مختلف ادبی جرائد و رسائل میں ان کے مضامین چھپ چکے ہیں۔ پھر ڈاکٹر عبدالرشید آزاد ؔ نے ان کے فن اور شخصیت پر کتاب مرتب کی ہے، ان کے مضامین اور متذکرہ کتاب کی وجہ سے اتنا تو ہوا ہے کہ پتہ چلا موصوف ادب سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔مگر ایک بات شاید کم لوگ ہی جانتے ہوں گے مگر اکثریت سے ہمیشہ پوشیدہ رہی ہے کہ وہ اردو کے ایک بہت بڑے شاعر بھی ہیں۔
حال ہی میں ڈاکٹر عبدالرشید آزاد ؔ ہی نے ان کی شاعری کو’’دردِ نا تمام‘‘ کے نام سے اپنے ادبی دیوان بلوچستان âادبá کے ذریعے چھاپ کر منظر عام پر لاچکے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب نے پروفیسر صابر بولانوی صاحب کی زندگی کے اس گوشے سے پردہ اٹھایا ہے جو ہمیشہ چھپی رہی تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ پروفیسر صابر بولانوی صاحب اردو کے شاعری نہیں بلکہ بہت بڑے شاعر ہیں۔
کتاب ’’دردِ نا تمام‘‘ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ غزل، دوسرا حصہ نظم ، تیسرا حصہ قطعات اور چوتھا حصہ فردیات پر مشتمل ہے۔ بولانوی صاحب کی شاعری اتنی دلچسپ ہے کہ ہر غزل پڑھنے کے بعد دوسری غزل پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ اسی طرح ان کی نظمیں، قطعات اور فردیات بھی ہیں۔
اچھی کتاب وہ جو بندے کو خود مجبور کرے کہ بندہ اسے پڑھے۔ مجموعہ کلام ’’دردِ ناتمام‘‘ بھی انہیں کتابوں میں سے ہے جو بندے کو اپنے پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر عبدالرشید آزاد ؔ صاحب کے ہاتھوں ملتے ہی ایک دن سے مجھ سے پڑھ گئی ۔
پروفیسر صابر بولانوی صاحب کی شاعری میں نفرت سے نفرت اور محبت سے گہری محبت ہے۔یہ کتاب انسانیت کا درس دیتی ہے اور جینے کا گُر سکھاتی ہے۔ جیسے کہ وہ کہتے ہیں:
کیوں کروں نفرت مجھے انسانیت سے پیار ہے
درس اُلفت کا ہی دے گا دل کہ خود مختار ہے
یا
میں کہ دن رات یہی مانگوں دعائیں یارو
دل کی نفرت بھی محبت کا بدل ہوجائے
اور
ہر طرف پیار محبت کی صنم
خوب برسات اگر ہوجاتی
بولانوی صاحب ایسے ہیں جیسے پیار کے پیاسی ہیں جیسا کہ کہتے ہیں:
زندگی میں پیار کی مہکار ہو
اے خدا میرا کوئی غمخوار ہو
وہ نہ صرف اردو پڑھانے کا استاد ہیں بلکہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے محبت کا بھی سبق پڑھاتے ہیں جیسا کہ:
سبق اُلفتوں کا پڑھاتے رہیں گے
کھڑی اِک ادب کی عمارت کریںگے
وہ شاعری میں نہ صرف محبت کا واعظ کرتے ہیں بلکہ محبت کی تلقین بھی کرتے ہیں:
ایک دوجے سے کبھی آپ نہ نفرت کرنا
خوب جی بھر فقط پیار محبت کرنا
ایک شعر میں وہ اپنی گوشہ نشینی کو اپنے مزاج کا برعکس قرار دیتے ہوئے اپنا راز بتاتے ہیں کہ:
میں بھی صابر شریک ہوں گا اگر
پیار کی انجمن نظر آئے
وہ کہتے ہیں کہ محبت کے لیے قریب ہونا ضروری نہیں بلکہ محبت ایک کیفیت ہے جس میں محبوب ہمیشہ تصور میں رہتا ہے جیساکہ :
مانا کہ دور ہے وہ ، لیکن کبھی کبھی ہم
آنکھوں کو بند کرکے جانان دیکھتے ہیں
وہ کہتے کہ ہم کتنے بھی غمگین ہوں،غم میں مبتلا ہوں، مگر درس ہم صرف اور صرف محبت کا دیتے ہیں ، جیسا کہ:
ہم غموں میں تو ڈوب جاتے ہیں
بس محبت کا درس دیتے ہیں
بولانوی صاحب کو اس بات پر پکا یقین ہے کہ محبت ختم ہونے والی چیز نہیں بلکہ دلوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے، اس لیے کہتے ہیں کہ:
یقین ہے ہر اِک دل میں زندہ رہے گی
محبت کی پیاری کہانی ہماری
وہ لوگوں کو اپنے پاس بلاتے کہ ہم سے دور مت ہوجائو، ہمارا قریب آجائو:
دل میں کب غیض و غضب رکھتے ہیں
ہم تو اُلفت کی طلب رکھتے ہیں
وہ اپنے رفقائ کو ، اپنے چاہنے والوں ، اپنے احباب اور اپنے عزیز و اقارب کے لیے دعائیں مانگتے ہیں:
اے مولا میرے یاروں کے
نصیبیں کھول پیاروں کے
ایسے لوگ جو محبت کے لطف سے دور رہے ہیں کو کہتے ہیں:
بس کہ نا واقف رہے یوں عمر بھر
ہم محبت کے انجام سے
…………
وہ انسان تو مقدس اور پیارا ہے
کہ جس کے دل کے ہر گوشے میں الفت ہے
…………
مری تو ابتدائ سے ہی، قسم لے لو
تعصب اور نفرت سے عداوت ہے
ان کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے حساس دل کے مالک ہیں جیسا کہ کہتے ہیں:
صابر میں ہوں اداس پریشان، چپ رہو
دنیا کے حادثات کی باتیں نہ چھیڑیے
…………
دل افسردہ ہو جب خیالوں میں
رابطہ رکھ خراب حالوں سے
…………
ہر اِ سے ملیں دل سے، حق بات کہیں دل سے
جینے کا یہی گُر ہے ، جو سب کو بتائیں گے
اصل بات کا خلاصہ یہ ہے کہ پروفیسر احمد علی صابر بولانوی صاحب کی شاعری محبت کی آذان ہے، نفرت کے خلاف اعلان ہے، انسانیت کا درس ہے ، تہذیب کا خلاصہ ہے ۔ ان کی شاعری میں بلوچستان کی تہذیب و ثقافت اور مٹی کی خوشبو ہے۔ اس شاعری کو تشت ازبام کرنے کے اعزاز حاصل کرنے پر ڈاکٹر عبدالرشید آزاد اور ان کی ادبی تنظیم ادبی دیوان بلوچستان مبارک باد کا مستحق ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.