اخبار آج بھی سوشل میڈیا کے مقابلے میں زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے

0

سوشل میڈیا تیز رفتار ہے، مگر ہر تیز چیز درست نہیں ہوتی خبر کی رفتار سے زیادہ اس کی سچائی اہم ہوتی ہے

رپورٹ ،، ریاض احمد شاہوانی

موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو بے حد تیز کر دیا ہے، وہیں اس کی وجہ سے خبروں کی صداقت ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔ ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے خبر نشر کرنے والا بن گیا ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا فقدان بھی نمایاں ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم اخبارات اور سوشل میڈیا کا موازنہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ اخبار آج بھی سوشل میڈیا کے مقابلے میں زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔اخبارات کی سب سے بڑی خوبی ان کی ادارتی نگرانی ہے۔ کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے پہلے اس کی تصدیق، تحقیق اور جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ رپورٹرز، ایڈیٹرز اور دیگر عملہ مل کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خبر درست اور متوازن ہو۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر اکثر خبریں بغیر کسی تحقیق کے وائرل ہو جاتی ہیں، جن میں افواہیں، غلط معلومات اور ذاتی آراء شامل ہوتی ہیں۔مزید برآں، اخبارات ایک باقاعدہ ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتے ہیں۔ صحافت کے اصول، جیسے غیر جانبداری، حقائق کی درستگی اور عوامی مفاد کو ترجیح دینا، اخبار کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر کسی خبر میں غلطی ہو جائے تو اخبار اس کی تصحیح بھی شائع کرتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات اکثر بغیر کسی جواب دہی کے پھیلتی رہتی ہیں۔سوشل میڈیا کی دنیا میں سنسنی خیزی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ توجہ حاصل کرنے کے لیے غیر مصدقہ یا بڑھا چڑھا کر خبریں پیش کرتے ہیں، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری طرف اخبار سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ خبریں پیش کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف اطلاع دینا نہیں بلکہ معاشرے کو درست سمت میں آگاہی فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔اخبارات کی ایک اور اہم خصوصیت ان کی تاریخی حیثیت ہے۔ اخبارات ریکارڈ کا کام دیتے ہیں؛ پرانی خبریں، واقعات اور تجزیے محفوظ رہتے ہیں، جو مستقبل میں تحقیق اور حوالہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی معلومات اکثر وقتی اور غیر منظم ہوتی ہیں، جن پر مکمل بھروسہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔مزید یہ کہ اخبارات میں شائع ہونے والے اداریے، کالم اور تحقیقی مضامین ماہرین کی رائے پر مبنی ہوتے ہیں، جو کسی بھی مسئلے کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اگرچہ مختلف آراء دستیاب ہوتی ہیں، مگر ان میں سے اکثر غیر ماہر افراد کی ہوتی ہیں، جن پر اندھا اعتماد کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا تیز رفتار ہے، مگر ہر تیز چیز درست نہیں ہوتی۔ خبر کی رفتار سے زیادہ اس کی سچائی اہم ہے، اور یہی خوبی اخبار کو ممتاز بناتی ہے۔ ایک ذمہ دار معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستند ذرائع پر بھروسہ کرے اور ہر وائرل خبر کو سچ نہ سمجھے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا اپنی جگہ ایک مفید ذریعہ ہے، لیکن خبروں کی صداقت، ذمہ داری اور اعتبار کے لحاظ سے اخبار اب بھی زیادہ اہم اور قابلِ اعتماد ہے۔ ایک باشعور شہری کو چاہیے کہ وہ معلومات حاصل کرتے وقت احتیاط سے کام لے، تحقیق کرے اور مستند ذرائع کو ترجیح دے تاکہ وہ حقیقت اور افواہ میں فرق کر سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.