بلوچستان کے وزیراعلیٰ سے ایک صحافی کا سوال

0

تحریر: عظمت خان داؤد زئی
وزیراعلیٰ بلوچستان جناب سرفراز بگٹی صاحب!
کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں میڈیا، خصوصاً پرنٹ میڈیا کن کٹھن مراحل سے گزر رہا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک اخبار نکالنے کا روزانہ خرچ کیا ہے اور آمدن کتنی ہے؟ یا یہ بھی حقیقت ہے کہ پرنٹ میڈیا واحد ایسا شعبہ ہے جو نامعلوم تاریخ تک حکومت کے ساتھ کریڈٹ پر کام کر رہا ہے؟
پرنٹ میڈیا آج بھی ریاستی بیانیے کو عوام تک پہنچانے کا سب سے منظم اور ذمہ دار ذریعہ ہے۔ اخبارات حکومتی اشتہارات شائع کرتے ہیں، سرکاری مؤقف پیش کرتے ہیں، مگر ادائیگیاں مہینوں نہیں بلکہ بعض اوقات سالوں تاخیر کا شکار رہتی ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ اخبار مالکان، ایڈیٹرز اور رپورٹرز اپنا گھر بار گروی رکھ کر ریاستی معلومات عوام تک پہنچائیں اور بدلے میں انہیں مالی بحران، تنخواہوں کی تاخیر اور اداروں کی بندش کا سامنا کرنا پڑے؟
دنیا بھر میں حکومتیں میڈیا کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہیں کیونکہ مضبوط میڈیا ریاست کو مضبوط کرتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں بظاہر الٹی سمت میں سفر جاری ہے۔ میڈیا کو مالی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ اخبارات کے کاغذ، پرنٹنگ، بجلی، گیس، پٹرول، ترسیل اور تنخواہوں کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں، مگر اشتہاری ریٹس وہی پرانے ہیں۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کا پرنٹ میڈیا صرف کاغذ تک محدود نہیں۔ ہر اخبار کے واٹس ایپ گروپس ہیں، ویب سائٹس ہیں، سوشل میڈیا پیجز ہیں، جہاں پرنٹ میں شائع ہونے والا مواد ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچتا ہے۔ اس ڈیجیٹل پھیلاؤ کو بھی سرکولیشن کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ مگر افسوس کہ پالیسی ساز ادارے اب بھی پرانے پیمانوں سے فیصلے کر رہے ہیں۔
ایک اور بنیادی سوال بھی ہے — ہم ٹیکس دیتے کہاں نہیں؟
پٹرول پر ٹیکس، گیس پر ٹیکس، بجلی پر ٹیکس، ادویات پر ٹیکس، حتیٰ کہ بسکٹ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ پر بھی ٹیکس۔ مگر اس کے باوجود ہمیں “نان فائلر” کہا جاتا ہے۔ آخر یہ اربوں روپے کہاں جاتے ہیں؟ ہمارے شناختی کارڈ پر ٹیکس کی مکمل تفصیل کیوں درج نہیں ہوتی؟ کیا یہ وقت نہیں کہ ٹیکس نظام کو شفاف بنایا جائے؟
ہر صوبے میں محض سو یا ڈیڑھ سو اخبارات نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے پوری ایک معاشی زنجیر ہوتی ہے — رپورٹر، فوٹوگرافر، ڈیزائنر، پرنٹنگ پریس، ڈسٹری بیوٹر، ہاکر — ہزاروں خاندان اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ جب حکومت اشتہارات کی ادائیگی روکے گی تو متاثر صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہوگا۔
وزیراعلیٰ صاحب!
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
سرکاری اشتہارات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
ڈیجیٹل سرکولیشن کو بھی باقاعدہ پالیسی میں شامل کیا جائے۔
میڈیا ہاؤسز پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔
اشتہاری پالیسی کو شفاف اور یکساں بنایا جائے۔
صوبائی سطح پر میڈیا سپورٹ فنڈ قائم کیا جائے۔
اگر ریاست میڈیا کو کمزور کرے گی تو نقصان صرف صحافیوں کا نہیں ہوگا، بلکہ جمہوریت، شفافیت اور عوام کے حقِ معلومات کا ہوگا۔
آج میڈیا کو دبانے کا نہیں، سنبھالنے کا وقت ہے۔ کیونکہ قلم کمزور ہوگا تو معاشرہ بھی کمزور ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.