پرنٹ میڈیا کی قومی خدمات اور سوشل میڈیا کے بے بنیاد دعوے

0

تحریر: ندیم صادق
موجودہ دور میں بعض سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پرنٹ میڈیا اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اخبارات محض کاغذ کے ٹکڑے رہ گئے ہیں۔ یہ سوچ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ملکی صحافتی تاریخ سے ناواقفیت کی عکاس بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا اس ملک کی نظریاتی، جمہوری اور صحافتی بنیادوں کا ستون رہا ہے۔ اگر آج ہم آزادیٔ اظہار کی بات کرتے ہیں تو اس کی مضبوط بنیاد اخبارات نے ہی رکھی۔ کیا ہم یہ بھول جائیں کہ پاکستان کی آزادی کی تحریک میں اخبارات نے کلیدی کردار ادا کیا؟ اگر کاغذ کو بے وقعت کہا جائے تو پھر تاریخ کے وہ سنہری ابواب بھی نظر انداز کرنا ہوں گے جو انہی صفحات پر رقم ہوئے۔
پرنٹ میڈیا کی تاریخی خدمات
برصغیر میں آزادی کی جدوجہد کے دوران اخبارات نے عوام میں شعور بیدار کیا، سیاسی آگاہی پھیلائی اور حق کی آواز کو ہر گھر تک پہنچایا۔ اُس دور میں نہ ٹی وی تھا اور نہ سوشل میڈیا — قوم کی رہنمائی کا واحد ذریعہ اخبار تھا۔
آج بھی ملک کے دور دراز علاقوں میں مستند معلومات کا سب سے معتبر ذریعہ پرنٹ میڈیا ہی ہے۔ اخبارات خبر کو چھاپنے سے پہلے ادارتی فلٹر، تصدیق اور ذمہ دارانہ جانچ کے مراحل سے گزارتے ہیں، جو سوشل میڈیا میں اکثر مفقود ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور خود ساختہ صحافت
بدقسمتی سے آج کل چالیس سے پچاس ہزار روپے کا موبائل خرید کر ہر دوسرا شخص خود کو صحافی کہنے لگا ہے۔ صحافت محض ویڈیو بنانے یا پوسٹ لکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری، تربیت اور ادارتی نظم و ضبط کا تقاضا کرتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج سوشل میڈیا پر اخبارات کو تنقید کا نشانہ بنانے والے بہت سے افراد وہی ہیں جنہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز پرنٹ میڈیا سے کیا۔ جس ادارے نے انہیں پہچان دی، آج وہی ان کی تنقید کا ہدف بن رہا ہے — جو اخلاقی طور پر افسوسناک ہے۔
پرنٹ میڈیا کیوں آج بھی اہم ہے؟
پرنٹ میڈیا کی چند نمایاں خصوصیات:
✔ مستند اور تصدیق شدہ خبریں
✔ ادارتی نگرانی اور قانونی ذمہ داری
✔ قومی بیانیے کی تشکیل میں کردار
✔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار
✔ حکومتی سطح پر رجسٹریشن اور جوابدہی
اس کے برعکس سوشل میڈیا کا بڑا حصہ غیر رجسٹرڈ، غیر ذمہ دار اور بعض اوقات بلیک میلنگ جیسے عناصر سے متاثر نظر آتا ہے، جس سے ریاستی اداروں اور عوام دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
بلوچستان اور پاکستان میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت
خصوصاً بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں صنعتی مواقع محدود ہیں، اخبارات نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں بلکہ ہزاروں افراد کے روزگار کا وسیلہ بھی ہیں۔ پرنٹ میڈیا ایک صنعت کی حیثیت رکھتا ہے جسے کمزور کرنا دراصل مقامی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔
نتیجہ
پرنٹ میڈیا کو فرسودہ قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، مگر مستند صحافت کی بنیاد آج بھی وہی اصول ہیں جن پر اخبارات قائم ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کے بجائے ذمہ دار صحافت کو فروغ دیا جائے اور ان اداروں کی قدر کی جائے جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت میں دہائیاں صرف کی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.